نئی دہلی،29/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں شکست جھیلنے والے کانگریس کے محض 52 ممبران پارلیمنٹ ہی پارلیمنٹ پہنچیں گے اور اس کو اپوزیشن لیڈر کا بھی درجہ نہیں ملے گا۔راہل گاندھی صدر کے عہدے سے استعفی دینے پر اڑے ہوئے ہیں اور اگر وہ نہیں مانتے ہیں تو پارٹی کی کمان کون سنبھالے گا یہ سب سے بڑا سوال بنا ہوا ہے۔اسی درمیان مدھیہ پردیش اور کرناٹک کی ریاستی حکومتوں پر بحران منڈلا رہا ہے کرناٹک کانگریس کے لیڈر کے این رجنا کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کے حلف لیتے ہی ریاستی حکومت گر جائے گی۔وہیں مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت کو حمایت دے رہے بی ایس پی کی ممبر اسمبلی کا الزام ہے کہ بی جے پی انہیں 50 کروڑ روپے کی پیشکش کررہی ہے۔پارٹی ابھی ان بحرانوں سے دوچار ہے کہ اس کے آگے ہریانہ، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات بھی کھڑے ہیں۔کانگریس کا صدر جو بھی بنے گا ان ریاستوں میں بے جان پڑے کانگریس کارکنوں میں پھر سے جان پھونکنے کابڑا چیلنج ہوگا۔دوسری طرف کانگریس کے سامنے ایک اور بڑا بحران آنے والا ہے۔بی جے پی اگلے سال تک راجیہ سبھا میں بھی مکمل اکثریت حاصل کر لے گی اس کے بعد اس کو اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے میں کسی کو روکنا آسان نہیں ہو گا۔فی الحال این ڈی اے کے پاس راجیہ سبھا میں 102 رکن ہیں، جبکہ کانگریس قیادت والے متحدہ ترقی پسند اتحاد یو پی اے کے پاس 66 اور دونوں گٹھ بندھنوں کے علاوہ پارٹویں کے پاس 66 ارکان ہیں۔این ڈی اے کے خیمے میں اگلے سال نومبر تک تقریبا 18 نشستیں اور شامل ہو جائیں گی۔این ڈی اے کو کچھ نامزد، آزاد امیدوار اور ارکان کی بھی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔ راجیہ سبھا میں نصف تعداد 123 ہے، اور ایوان بالا کے ارکان کا انتخاب ریاستی اسمبلی کے رکن کرتے ہیں۔اگلے سال نومبر میں اترپردیش میں خالی ہونے والی راجیہ سبھا کی 10 میں سے زیادہ تر نشستیں بی جے پی جیتے گی۔ان میں سے نو نشستیں اپوزیشن جماعتوں کے پاس ہیں۔ان میں سے چھ سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے پاس، دو بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور ایک کانگریس کے پاس ہے۔اتر پردیش اسمبلی میں بی جے پی کے 309 رکن ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے 48، بی ایس پی کے 19 اور کانگریس کے سات رکن ہیں۔اگلے سال تک بی جے پی کو آسام، اروناچل پردیش، اتراکھنڈ، اڑیسہ، ہماچل پردیش میں سیٹیں ملیں گی۔بی جے پی راجستھان، بہار، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں نشستیں گنوائے گی مہاراشٹر اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کا بھی این ڈی اے کی سیٹ کی تعداد پر اثر پڑے گا۔آسام کی دو نشستوں کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، جبکہ تین دیگر نشستیں ریاست میں اگلے سال تک خالی ہو جائیں گی۔بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے پاس ریاست اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہے۔ایوان بالا کی تقریبا ایک تہائی نشستیں اس سال جون اور اگلے سال نومبر میں خالی ہو جائیں گی۔دو سیٹیں اگلے ماہ آسام میں خالی ہو جائیں گی اور چھ نشستیں اس سال جولائی میں تمل ناڈو میں خالی ہو جائیں گی۔اس کے بعد اگلے سال اپریل میں 55 نشستیں خالی ہوں گی، پانچ جون میں، ایک جولائی میں اور 11 نومبر میں خالی ہوں گی۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ آسام سے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ہیں اور ان کا دور اقتدار بھی جون میں ختم ہو جائے گا۔منموہن سنگھ جیسے لیڈر جن کواقتصادی پالیسی میں مہارت حاصل ہے ان کا پارلیمنٹ میں نہ رہنا کانگریس کے لئے ایک بڑا جھٹکاہے۔آسام اسمبلی میں کانگریس کے ممبران اسمبلی کی جو تعداد ہے اس سے منموہن سنگھ کی سیٹ نہیں بچائی جا سکتی ہے۔راجیہ سبھا کا الیکشن 7 جون کا ہے۔اس کے علاوہ آسام سے ہی ایک اور کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ایس کجور بھی 14 جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔یہ سیٹ بھی بی جے پی کے اکاؤنٹ میں جانا طے ہے۔اگلے سال 22 ریاستوں کو 72 سیٹوں پر جب راجیہ سبھا انتخابات ہو ں گے تو کانگریس کے پاس ایک موقع ملے گا کہ وہ منموہن سنگھ کو راجیہ سبھا بھیج سکے لیکن اس کے لئے اسکو جے ڈی ایس کی مدد چاہئے ہو گی۔لیکن اس میں بھی ایک کانگریس اور جے ڈی ایس کو منموہن سنگھ یا ایچ ڈی دیوگوڑا میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔